ہم یہ گرتی ہوئ دیوار سنبھالے ہوۓ ہیں


ہم تو زنجیر _ سفر شوق میں ڈالے ہوۓہیں

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوۓہیں



جان و تن عشق میں جل جائيں گے جل جانے دو

ہم اسی آگ سےگھر اپنا اجالے ہوۓہیں



کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے

کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوۓہیں



اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو

بھائ ،ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوۓہیں



ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم

لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوۓہیں



کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی

یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوۓہیں



دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی

ہم یہ گرتی ہوئ دیوار سنبھالے ہوۓہیں