مری آنکھیں مرے سب خواب کھونا چاہتی ہے


مری آنکھیں مرے سب خواب کھونا چاہتی ہے
کوئی طاقت مری کشتی ڈبونا چاہتی ہے

کوئی دکھ ہو تمنا یا کوئی حسرت ملے بس
یہ قمست کھیلنے کو اک کھلونا چا ہتی ہے

سنو جاتے ہوئے تم کھڑکیاں بھی بند کر جاؤ
مرے گھر میں مری تنہائی رو نا چاہتی ہے

اُٹھاؤ اپنی یادوں کو یہاں سے دور لے جاؤ
وفا اب تھک چکی اتنی کہ سونا چاہتی ہے

محبت بھی عجب شے ہے کبھی چھپتی پھرے خود
جتاتی ہے کبھی رسوا بھی ہونا چاہتی ہے

تباہی در پہ میرے دستکیں دینے لگی اب
تری چاہت مرے دل میں سمونا چاہتی ہے___



خدا کا رِزق تو ہر گز زمیں پر کم نہیں یارو!


ھنور میں کھو گئے ایک ایک کرکے ڈُوبنے والے
سرِ ساحل کھڑے تھے سب تماشا دیکھنے والے

خدا کا رِزق تو ہر گز زمیں پر کم نہیں یارو!

مگر یہ کاٹنے والے! مگر یہ بانٹنے والے!

کہاں یہ عشق کا سنگِ گراں ہر اِک سے اُٹھتا ہے !
بہت سے لوگ تھے یوں تو یہ پتّھر چُومنے والے

وفا کی راہ مقتل سے گزرتی ہے تو بِسم اللہ’
نہیں پَسپائی سے واقف تمھارے چاہنے والے

اَزل سے ظُلم دیکھے جارہی ہیں، دیکھتی آنکھیں
اَزل سے سوچ میں ڈوبے ہیں امجد سوچنے والے


بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے


بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

منزل نہیں ہوں، خضر نہیں، راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا
میں عشق کا دیوتا ہوں مجھے یاد کیجیے

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

گُم صُم کھڑی ہیں‌دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی
بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے...!!


سنا ہے شہر میں


سنا ہے شہر میں
آج صبح نئی نئی سی ہے
ایسا لگتا ہے کہیں پاس ہے وہ
اسکی خوشبو میں بسے سرد ہوا کے جھونکے
کہہ رہے ہیں کہ یہیں پاس ہے وہ
بے بسی کر رہی ہے من بوجھل
دل اسے دیکھنے کو ہے بے کل
سونی گلکیوں کو تکے جا رہے ہیں
مانتے کیوں نہیں نینا پاگل
جانتے ہیں اسے معلوم نہیں ہجر کا غم
درد کا ذائقہ بھی اسنے کہاں چکھا ہے
پھر بھی راہوں میں بچھے جا رہے ہیں
سنا ہے شہر میں آج اسنے قدم رکھا ہے

میں اکثر ماں سے کہتا تھا

میں اکثر ماں سے کہتا تھا
ماں ! دعا کرنا
کہ کبھی تیرا یہ بیٹا
خاکی وردی پہنے
سینے پہ تمغے سجاءے
مجاہدوں کا سا نور لیے
تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو،
اور میری ماں
میری ماں یہ سن کر
ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
 تو اْس سے کہنا
وہ اب بھی ہنستی رہا کرے،
کہ شہیدوں کی مائیں
رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔



چاندنی رات میں آتے ہیں ستارے چل کر



نفس مضمون بناتے ہیں ، بدل دیتے ہیں 
کتنے عنوان سجاتے ہیں ، بدل دیتے ہیں 

تیرے آنے کی خبر سنتے ہی ، گھر کی چیزیں 
کبھی رکھتے ہیں ، اٹھاتے ہیں، بدل دیتے ہیں 

حسن ترتیب تسلی نہیں دیتا دل کو
گل سے گلدان سجاتے ہیں ، بدل دیتے ہیں 

گفتگو کو یونہی محتاط بنانے کے لیے
لفظ ہونٹوں پہ جو لاتے ہیں ، بدل دیتے ہیں 

ہم ہیں بے کل سے انہیں جب سے یہ معلوم ہوا
وقت آنے کا بتاتے ہیں ، بدل دیتے ہیں 

چاندنی رات میں آتے ہیں ستارے چل کر
اور تقدیر بناتے ہیں ، بدل دیتے ہیں