اک سفر ____ ہماری ذات میں تھا الجھے ہوئے دن اور رات میں تھا ہر منظر جو گرداب میں تھا وہ ٹھہر گیا ہم ٹھہر گئے دل ٹھہر گیا...!!!


کس کو قاتل میں کہوں کس کو مسیحا سمجھوں
سب یہاں دوست ہی بیٹھے ہیں کسے کیا سمجھوں

وہ بھی کیا دن تھے کہ ہر وہم یقیں ہوتا تھا
اب حقیقت نظر آئے تو اسے کیا سمجھوں

دل جو ٹوٹا تو کئی ہاتھ دعا کو اٹّھے
ایسے ماحول میں اب کس کو پرایا سمجھوں

ظلم یہ ہے کہ ہے یکتا تیری بیگانہ روی
لطف یہ ہے کہ میں اب تک تجھے اپنا سمجھوں


آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

کھل گئے شہر غم کے دروازے
اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی

کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھے
مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی

خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
ماہ شب تاب کے نکلتے ہی

تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
عکس دیوار کے بدلتے ہی

خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں
چڑھ گیا زھر گل مسلتے ہی

قرباں ھوئے جو ان پہ بہتر چراغ عرش
قرآں حسین تھا وہ سیپارے حسین کے
( جناب صائم جی )

تراب کرب و بلا تبرک سمجھ کے کھا ئی تھی سال پہلے
گئی نہیں ھے مرے بدن سے ابھی تلک نینوا کی خوشبو
( جناب وسیم نقوی )

پیاس کا دشت وھی کرب و بلا اور حسین
کتنے ملتے ھیں یہ د و لفظ وفا اور حسین
( جناب حسن جعفری )

یہ واقعہ ھی نہیں ا یک درس ھے محمود
میں کربلا کے حوالے سے د ین کو سمجھا
( محمدمحمود احمد )

غم زما نہ کے اس دشت میں علی اعظم
اگر حسین نہ ھوتے ھمارا کیا ھوتا
( علی اعظم بخاری )