isi se hota he zahir


اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے

سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتری
تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے

اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا
یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے

یہ دل، یہ اُجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی
ہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے

یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میں
میری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے

اسیر ہے میری شاخ نصیب پت جھڑ میں
میرے پرندۂ دل پر بھی جال درد کا ہے

بدل گئے میرے حالات دل تو کیا ہو گا
یہ ایسی بات ہے جس میں زوال درد کا ہے

دلوں پہ زندہ تھا دل ہی نہیں رہے ہیں یہاں
اب ایسے شہر میں جینا محال درد کا ہے

جمود توڑتی آنکھیں، سکوت توڑتے لب
یہ ناک نقشہ یہ سب خدّ و خال درد کا ہے

سُنا ہے تیرے نگر جا بسا ہے بیچارا
سُناؤ کیسا وہاں حال چال درد کا ہے

وگرنہ خار و خزاں کے سوا نہیں کچھ بھی
بس ایک پھول میری ڈال ڈال درد کا ہے

اُکھڑتی جاتی ہے دیوانہ وار ایڑیوں سے
زمینِ جاں پہ ہماری دھمال درد کا ہے

فقیر بیٹھے ہوئے ہیں بہت سکون سے ہم
تیری جدائی کی کُٹیا ہے پیال درد کا ہے

کہ ہم نے کس کے لیے جاں عذاب میں ڈالی
ہمیں تو آج بھی خود سے ملال درد کا ہے

ہمارے سینے میں دل کی جگہ پہ پتھر ہے
اِسی لیے تو یہاں ایسا کال درد کا ہے

تہاری چاہ نے ڈھونڈی تھی میری آبادی
یہ گھاؤ سینے کی بستی میں کھال درد کا ہے

یہ عشق ہے اِسے تیمار داریاں کیسی
اسے نہ پوچھ یہ بوڑھا نڈھال درد کا ہے

ہم اس کو دیکھتے جاتے ہیں، روتے جاتے ہیں
یہ صحنِ شب میں پڑا ہے جو تھال درد کا ہے

نہ تم میں سکھ کی کوئی بات ہے نہ مجھے میں ہے
تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے

ابھی کہیں سے کڑی کوئی بھی نہیں ٹوٹی
ابھی تو سلسلہ سارا بحال درد کا ہے

میری طرف سے گزر کا خیال رہنے دو
یہ راستہ بھی بہت پائمال درد کا ہے

دل و نظر تو رہیں گے سکون میں لیکن
شب فراق مجھے احتمال درد کا ہے

کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں
ہمارے پاس یہی کچھ ماٌل درد کا ہے

یہیں کہیں میرے اندر کوئی تڑپتا ہے
یہیں کہیں پہ کوئی یرغمال درد کا ہے

اسی لیے تو ہمیں عجز کا قرینہ ہے
ہماری ذات میں جاہ و جلال درد کا ہے

ہے مار رکھنے کے در پئے تری مسیحائی
جو دوڑا پھرتا ہے مَن میں غزال درد کا ہے

وہیں کہیں کسی گھاٹی میں تیرا ہجر بھی ہے
میرے لہُو سے جہاں اِتصال درد کا ہے

نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہے
نہ جانے روح میں کب سے اُبال درد کا ہے

یہی تو فرق ہے ان میں اور آپ میں فرحت
کسی کو اپنا کسی کو خیال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کہ فرحت بہت حسین ہو تم
تو مُسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

ye jo qurbaton ka


یہ جو قربتوں کا خمار ہے
مرے اجنبی، مرے آشنا
تو مصر کے آئینہ خانے میں
ترے خال و خد کے سوا مجھے
کہیں اور کچھ نہ دکھائی دے

یہ عذابِ طوق و رسن مرا
کسی قصر خواب و خیال تک
مرے ذہن کو نہ رسائی دے
مجھے راستہ نہ سجھائی دے

تو یہ چھت جو اپنے سروں پہ ہے
یہ جو بام و در کے حصار ہیں
یہ جو رت جگوں کی بہار ہے
یہ جو قربتوں کا خمار ہے
تو اسی پہ کیا شب عمر کی

سبھی راحتوں کا مدار ہے ؟
مرے اجنبی، مرے آشنا

کہ دھواں دھواں سی جو ہے فضا
یہ تھمی تھمی سی جو ہے ہوا
یہ جو شور ہے دل زار کا
کبھی اس پہ غور کیا ہے کیا ؟
مرے اجنبی، مرے آشنا

کبھی کاش تجھ سے میں کہہ سکوں
کہ یہ ساعتیں ہیں کٹھن بہت
مرے زخم جاں کے طبیب آ
مرے تن بدن سے بھی ربط رکھ
مری روح کے بھی قریب آ
مرے اجنبی، مرے آشنا 

wasi shaa


samandar mein utarta hoon to aankhe bheg jati hai
teri aankhon ko padta hoon to aankhe bheg jati hai


tumhara naam likhne ki ijazat cheen gayi jab se
koi bhi lafz likhta hoon to aankhe bheeg jati hai



tri yaadon ki khushboo kidkiyoun mein rakhs karti hai
tere gham min sulagta hoon to aankh bheeg jati hai



mein hans ke jheleta hoon judai ki sab rasmein
gale jab usske lagta hoon to aankhe bheeg jati hai



na jane hogaya hoon is qadar hasas mein kab se
kisi se baat kara hoon to aankh bheeg jati hai



wo sab guzre hue lamhat mujheko yaad aate hain
tumhare khat jo padta hoon to aankhe bheeg jatihai



mein sara din musruf rehta hoon magar jo nahi
khadam chukhat pe rakhta hoon to aankhe bheeg jaati hai



har ek muflis ke mathe per alim ki dastanein hai
koi chehra bhi padta hoon to aankhe bheeg jati hai



bad logon ke unche aur badnuma muhalon ko
gharib aankho se taangta hoon to aankhe bheg jati hai



tere kosche se mera taluq wajbi sa hai
magar jab bhi guzarta hoon to aankhe bheeg jati hai



hazaron masoomon ki hakamrani hai mere dil per
wasi mein jab bhi hansta hoon to aankhe bheeg jaati hai


...........!!!!!!!!!!...........

ani shahid

walid k liye

maa k liye ek dua

sahil khan siyalwi


saat chalne wale jab




Sath chalny waly jab 

Sath chor jaty han 

Waqt thum nahi jata 

Koi mar nahi jata 

Koi mar bhi jay to 

Zindgi nahi rukti 

Raston ko chalna hai 

Rasty to chalty han 

Yaar dost milty han 

Zakhum aisy silty han 

Ghard ghard lamhon main 

Umar kat hi jati hai 

Kuch mosafron ko bas manzilan nahi milteen 

Najane kyun bicher jate hain wo log. 

Jin ki yaadin ban jati hain umar bhar ka

saeed ud din saeed


perveen looni

naqvi ahmed pori



habib jalib

beta maa sy


(BETA MAA SE)

=,EK NAZR,=,



Mere wajood me wafa ki roshni
UTAAR de,
Phir itna pyar de k mujhe chahton me
MAAR de

Boht udas tha so uth k tere pas aa gya

Kuch aisi baat kr jo mere dil ko
QARAAR de,

Suna hai teri aik
NAZR sanwaarti hai zindagi,

Jo ho sake to aj tu meri zndgi
SaNWAR de.

aziz balghami


mir anees

akber aalaa aabadi


ahmed wasi

"maa"



Os ko soucha hi nahi

اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے مُحبت نہیں کی
وھاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے مُحبت نہیں کی

اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
ہم نے پہلے بھی مُحبت میں سیاست نہیں کی

تُم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے
تُم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی

دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سِمٹ آئی تھیں
وہ بھی خاموش تھا، ہم نے بھی وضاحت نہیں کی

رات کو رات ہی اِس بار کہا ہے ہم نے
ہم نے اِس بار بھی توہینِ عدالت نہیں کی

گردِ آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے
ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی

بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے
رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی

آ، ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی، کس حال میں ہے
کئی دن ہو گئے دُشمن کی زیارت نہیں کی

تم نے سب کُچھ کیا، انسان کی عزت نہیں کی
کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی