زندگی کے حادثوں میں

زندگی کے حادثوں میں وہ حادثہ اچھا لگا

سب بت یہاں اچھے مگر پتھر کا بت اچھا لگا

تلخ یاد یں ہی سہی انکی ہمارے پاس ہیں
ہم کو قدرت کا یہ تحفہ حافظہ اچھا لگا

رنج و غم اور الجھنیں سب کچھ ہمارے پاس ہیں
پھر بھی کسی کی یاد میں جلنا بہت اچھا لگا

زندگی کی بھیڑ میں روشنی گو کم سہی
ہم کو اس ہی بھیڑ میں سامنا اچھا لگا

شاعری اس دور میں زیست کا حاصل بنی
سب کو بھی اچھی لگی مجھ کو بھی اچھا لگا

وقت گزاری کے لیے کچھ ڈھنگ ہونے چاہیئں
اس مشینی دور میں فی الوقت یہی اچھا لگا

ہم کو کسی کی یاد سے کیا واسطہ اعجاز
پر واسطوں کے درمیاں یہ واسطہ اچھا لگا

ھمتِ التجا نہیں باقی ۔ فیض

ھمتِ التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئ مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
ترے چشمِ عالم نواز کی خیر
دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی
ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی

ہر حقیقت مجاز ہو جائے ۔ فیض


ہر حقیقت مجاز ہو جائے
کافروں کی نماز ہو جائے
منتِ چارہ ساز کون کرے
درد جب جاں نواز ہو جائے
عشق دل میں رہے تو رسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہو جائے
لطف کا انتظار کر تا ہوں
جور تا حدِ نا ز ہو جا ئے
عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض
کا ش افشائ راز ہو جائے

زندگی کے حادثوں میں


زندگی کے حادثوں میں وہ حادثہ اچھا لگا
سب بت یہاں اچھے مگر پتھر کا بت اچھا لگا

تلخ یاد یں ہی سہی انکی ہمارے پاس ہیں
ہم کو قدرت کا یہ تحفہ حافظہ اچھا لگا

رنج و غم اور الجھنیں سب کچھ ہمارے پاس ہیں
پھر بھی کسی کی یاد میں جلنا بہت اچھا لگا

زندگی کی بھیڑ میں روشنی گو کم سہی
ہم کو اس ہی بھیڑ میں سامنا اچھا لگا

شاعری اس دور میں زیست کا حاصل بنی
سب کو بھی اچھی لگی مجھ کو بھی اچھا لگا

وقت گزاری کے لیے کچھ ڈھنگ ہونے چاہیئں
اس مشینی دور میں فی الوقت یہی اچھا لگا

ہم کو کسی کی یاد سے کیا واسطہ اعجاز
پر واسطوں کے درمیاں یہ واسطہ اچھا لگا

دعا ۔ فیض


آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہم جنھیں سوز محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی
زہرِامروز میں شیرینیِ فردا بھردے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کردے

جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں
ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کردے

جن کا دیں پیرویِ کذب و ریا ہے ان کو
ہمت کفر ملے ، جراءت تحقیق ملے
جن کے سر منتظر تیغ جفا ہیں ان کو
دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

ایسی بهی محبت کی سزا دیتی ہے دنیا


ایسی بهی محبت کی سزا دیتی ہے دنیا
مر جائیں تو جینے کی دعا دیتی ہے دنیا

ہم کون سے مومن تهے جو الزام نہ سہتے
پهتر کو بھگوان بنا دیتی ہے دنیا

یہ زخم محبت کا ہے دکھانا نہ کسی کو
لا کر سرے بازار سجا دیتی ہے دنیا

قسمت پر کرو ناز نہ اتنا فقیرو
ہاتھوں کی لکیروں کو مٹایا دیتی ہے دنیا

مرنے کے لئے کرتی ہے مجبور تو لیکن
جینے کے طریقے بهی سکھایا دیتی ہے دنیا

ایسی بهی محبت کی سزا دیتی ہے دنیا




سچ ہے کبھی اظہار کی جرآت نہ کرسکا
لیکن یہ نہیں ہے، کہ محبت نہ کر سکا

ہم نے تو انتظار میں اک عمر گزاری
وہ اپنی ایک شام عنایت نہ کر سکا

کچھ یوں غم دوراں نے مجھے گهیر کے رکها
بچپن میں بھی میں کوئی شرارت نہ کر سکا

اب تک ہیں پتلیوں میں زمانے کے ڈر سے قید
میں اپنے آنسوؤں کی زضمانت نہ کر سکا.....




baba fareed


khamosh muhabbat