Showing posts with label **نایاب اُردو غزل**. Show all posts
Showing posts with label **نایاب اُردو غزل**. Show all posts

jis des k maon behno ko aghyar utha kr le jaen

kab mohabbat sy dekhthy hain mujhy, sab zarorat sy dekhthy hian mujhy


samey samey ki khalish mein tera malah hai, judaiyon mein bhi aalam wasal rahy


usny piyar ka khel bhi nafrat se khela, har bar wo zalim mere hasrat se khela


Ban ke rehty they jo Mazi mein Ujalon ki tarah

'Ban ke rehty they jo Mazi mein Ujalon ki tarah
Aaj kitabo'n mein hain wo log Hawalon ki tarah

Shab e tareek mein ye bikhry huwe taary dekho
Kisi ulfat mein uljhy hain Khyalon ki tarah

Maykash kiya hai teri ulfat ne mujhe
Teri yaadein hain Sagar k Pyalon ki tarah

Raah e ulfat mein kai Log toot kar bikhry
Dunya karti hai unheid me aksar

Shab bhar nahi sotey teri yaad me aksar
Be'dard zamaney ka bahana sa bana k
Hum toot k rotey hain Sawalon ki tarah.

نصیحت روز بکتی ہے ،عقیدت روز بکتی ہے


نصیحت روز بکتی ہے ،عقیدت روز بکتی ہے
ہمارے شہر میں لوگو، محبت روز بکتی ہے
امیر شہر کے ڈر کا،ابھی محتاج ہے مذہب
ابھی ملا کے فتووں میں، شریعت روز بکتی ہے
ہمارے خون کو بھی وہ کسی دن بیچ ڈالیں گے
خریداروں کے جھرمٹ میں عدالت روز بکتی ہے
نجانے لطف کیا ملتا ہے ان کو روز بکنے میں
طوائف کی طرح لوگو
،قیادت روز بکتی ہے
کبھی مسجد کے منبر پر، کبھی حجرے میں چھپ چھپ کے
میرے واعظ کے لہجے میں، قیامت روز بکتی ہے
بڑی لاچار ہیں محسن جبینیں ان غریبوں کی
کہ مجبوری کی منڈی میں عبادت روز بکتی ہے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے | ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں‌بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے

دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے
نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے

تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی
اب حذر ہوتا ہے اس رات سے آتے جاتے

شہرِ بے مہر کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا
ایک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے

پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے
دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے

ہر گھڑی اک جدا غم ہے جدائی اس کی
غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے

اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ
اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے


عطا جسے تیرا عکس جمال ہوتا ہے

عطا جسے تیرا عکس جمال ہوتا ہے
وہ پھول سارے گلستاں کا لال ہو تا ہے

راہیں مجاز میں ہیں منزلیں حقیقت کی
مگر یہ اہل نظر کا خیال ہوتا ہے

تلاش کرتی ہے سایہ تمھارے آنچل کا
چمن میں باد صبا کا یہ حال ہوتا ہے

بہارے فطرت صیاد کی کہانی ہے
کہ اس کے دوش پہ پھولوں کا جال ہوتا ہے

یہ واردات بھی اب دل پہ روز ہوتی ہے
مسرتوں میں بھی ہم کو ملال ہوتا ہے

یہ بکھرے بکھرے سے گیسو، تھکی تھکی آنکھیں
کہ جیسے کوئی گلستاں نڈھال ہوتا ہے

جواب دے نہ سکے جس کا دوجہاں ساغر
کسی غریب کے دل کا سوال ہوتا ہے

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں | پروین شاکر

میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیں

جیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیں

آدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیں

دل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیں

امتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیں

ممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیں

مجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیں

یوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیں

ہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں

پروین شاکر

Top of Form