Showing posts with label *Dost key Naam*. Show all posts
Showing posts with label *Dost key Naam*. Show all posts

jis des k maon behno ko aghyar utha kr le jaen


سنا ہے شہر میں


سنا ہے شہر میں
آج صبح نئی نئی سی ہے
ایسا لگتا ہے کہیں پاس ہے وہ
اسکی خوشبو میں بسے سرد ہوا کے جھونکے
کہہ رہے ہیں کہ یہیں پاس ہے وہ
بے بسی کر رہی ہے من بوجھل
دل اسے دیکھنے کو ہے بے کل
سونی گلکیوں کو تکے جا رہے ہیں
مانتے کیوں نہیں نینا پاگل
جانتے ہیں اسے معلوم نہیں ہجر کا غم
درد کا ذائقہ بھی اسنے کہاں چکھا ہے
پھر بھی راہوں میں بچھے جا رہے ہیں
سنا ہے شہر میں آج اسنے قدم رکھا ہے

meri batoN ka hoga asar dekhna | sab ko aata nahi yeh hunar, dekhna


میری باتوںکا پوگا اثر دیکھنا
سب کو آتانہیں یہ ہُنردیکھنا
meri batoN ka hoga asar dekhna
sab ko aata nahi yeh hunar, dekhna

رہ نہ جائے کوئی بھی کسر دیکھنا
جس قدر چاہئیے اُس قدر دیکھنا
reh na jaey koyee bhi kasar, dekhna
jis qadar chahiay, us qadar dekhna

میری آنکھوں سے پردے کئی ہٹ گئے
مُجھ کو آیا اُسے دیکھ کر دیکھنا
meri aaNkhoN say perday kayee hut gaey
mujh ko aaya usay dekh ker dekhna

کر گیا بھیڑ میں بھی نُمایاں مُجھے
اُس کا چھت سے یوُں نیچے اُتر دیکھنا
ker gya bheeR maiN bhi numayaaN mujhay
uska chat say yuN neechay utar dekhna

یہ تو پہلے سے مُشکل ہوُئی زندگی
کس طرح اب یہ ہوگی بسر دیکھنا
yeh tou pehlay say mushkil hui zindagi
kis trah ab yeh hogi basar dekhna

میری راہوں میں کانٹے بچھا تا ہے جو
ہوگا اُن سے ہی اُس کا گُذر دیکھنا
meri rahoN maiN kaNTay bichata hai jo
hoga unsay hi uska guzar dekhna

میں تو اُس سے جُدا ہوکے جاؤں گا مر
ایک دن وہ بھی جائے گا مر دیکھنا
maiN tou us say juda ho kay jaooNga mar
eik din woh bhi jaeyga mar dekhna 

ایک مُدت اُسے ہونٹ بھینچے ہُوئی
اب ذرا اُس کی تُم چشم تر دیکھنا
eik muddat usay hoNt bheeNchay hui
ab zara uski tum chashm e tar dekhna

ہے یہ میری تسلی کو کافی بُہت
اُس کا میری طرف اک نظر دیکھنا
hai yeh mri tassalli ko kaafi bohat
uska meri taraf ik nazar dekhna

کُچھ تو عزت مُجھے اُس کی پیاری بھی تھی
کُچھ تو آتا نہیں آنکھ بھر دیکھنا
kutch tou izzat mujhay uski pyari bhi thi
kutch tou aata nahiN aaaNkh bhar dekhna

میں بھی ہُوں سخت جاں پر صبا کیا کروں
جاتے جاتے وہ اُس کا مگر دیکھنا
maiN bhi hooN sakht jaaN per SABA kya karooN
jaatay jaatay woh uska magar dekhna


پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم 

دونوں ہی کو امجدؔ ہم نے بچتے دیکھا کم 

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا 

سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم 

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے! 

شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم! 

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں 

دل کے چاند چراغ کی دیکھو، لَو نہ ہو مدّھم 

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں 

بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم!


سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام
ہر سر میں اِک رنگ دھنک کا تیرے نام

جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم
اور ہوا کا سبز دوپٹہ تیرے نام

ہجر کی شام اکیلی رات کے خالی در
صبحِ فراق کا درد اجالا تیرے نام

تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی
اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام

جتنے خواب خدا نے میرے نام لکھے
ان خوابوں کا ریشہ ریشہ تیرے نام


اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو


اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو
بھنورے سے مِلتی جُلتی ہے میں نے کہا یہ خُو

پُوچھا، بتاؤ درد کو چھُو کر لگا ہے کیا ؟
آیا جواب ، پوروں سے رسنے لگا لہو

دیکھا ہے کیا فلک پہ وہ تنہا اُداس چاند؟
آیا جواب ، اُس کو کسی کی ہے جُستجو !

ہوتی ہے کیوں یہ اَشکوں کی برسات رات بھر
آیا جواب ، آنکھوں کا ہوتا ہے یُوں وضو

پُوچھا گیا نصیب کے سُورج کا کیا بنا ؟
میں نے کہا وہ سو گیا ، ایسا بنا عدو

پُوچھا ، نمی سے ، دھُند سی آنکھوں میں کس لئے ؟
آیا جواب ، ہجر کی ان میں ہوئی نمو

پُوچھا ، بچھڑتے پل کی کوئی اَن کہی ہے یاد ؟
تارِ نفس پہ لکھی ہے اب تک وہ گفتگو

پوچھا ، سنو وصال کی چٹخی ہے کیوں زباں؟
میں نے کہا ، فراق کا صحرا تھا رُو برو

اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!


اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب!
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی ،دل پر
زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب
خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر
آج کی شب
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب

کم نظر دیکھ ہوا کی آہٹ
کس کی خوشبو میں بسی آتی ہے
کون سا عکس ہے جس کی خاطر
آنکھ آئینہ بنی جاتی ہے!

کس طرح چاند اچانک جھک کر
سرد شاخوں سے لپٹ جاتا ہے
کس طرح رنگِ چمن
ایک چہرے میں سمٹ جاتا ہے
سیلِ امواجِ تمنّا کیسے
ساحلِ دل سے پلٹ جاتا ہے
اور کس طور سے طے ہوتا ہے
لڑکھڑاتے ہوئے تاروں کا سفر آج کی شب
بے ہنر! آج کی شب
مجھ کو جی بھر کے اُسے یاد تو کر لینے دے
دولت ِ درد سہی جیب تو بھر لینے دے

Tere Lout ane Ka Imkan Saja Rakha hai

Dil ki CHokhat PE jo Ik Deep Jala Rakha hai ,
Tere Lout ane Ka Imkan Saja Rakha hai,

Sans tak bhi nahi lete hain tujhe,
Sochte waqt hum ne is kaam ko bhi kal pe Utha rakha hai,

Ruth jate ho tu Kch or haseen lagte ho,
Hum ne yeh soch ke hi tum ko khafa rakha hay,
 
tum jisse rota hue chor gaye the ek din,
hum ne is shaam ko seeney se laga rakha hay,
 
chain layne nahin deta yeh kisi tor mujhe,
teri yadon ne jo toofan utha rakha hay,
 
jane wale ne kaha tha ke wo lotay ga zarur ik issi aas pe
Darwaza Khula rakha hai ,
 
terey jane se jo ik dhool uthi thi ghum ki,
Hum ne is dhool ko ankhoun me bassa rakha hai,
 
mujh ko kal shaam se woh yaad buhat ane laga,
Dil ne muddat se jo ek shaks bhula rakha hai,
 
akhri bar jo aya tha mere naam wasi,
main ne us khat ko kalaije se lagha rakha hai......

Meri Saadgi Mera Jurm hai

"meri saadgi mera jurm he
yahan chahton ka sila nahi 

yahan dosti ka maza nahi

yahan jane kesi hawa chali 
rahi diston men wafa nahi

yahan jal gaya mera aashiyana 
shayad abi baadlon ko pata nahi

terey dar pe dastak de sakun 
ye haq to tum ne diya nahi

me raahi hun raah-e-umeed ka 
mujhe manzilon ka pata nahi

bebas hun jahaan me itna
jese mera koi apna nahi

mera sadgi mera jurm he
koi or meri khata nahi"

----------

Muhabbat chup nahin rehti


"محبتکیا ھے"
 " محبت اگر "
¤خدا سے ھو توبندگی بن جاتی ھے
¤ والدینسے ھو تو عبادتبن جاتی ھے
¤ بیٹےسے ھو تو نصیحتبن جاتی ھے
 ¤ بیٹی سے ھوتو رحمت بن جاتیھے
¤ بھن سے ھو توسعادت بن جاتی ھے
¤ بھائسے ھو تو تقویتبن جاتی ھے
 ¤ بیوی سے ھوتو ھمسفر بن جاتیھے
¤ دولتسے ھو تو مرضبن جاتی ھے
 ¤ صحیح راستے سےھو تو منزل بنجاتی ھے

isi se hota he zahir


اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے

سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتری
تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے

اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا
یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے

یہ دل، یہ اُجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی
ہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے

یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میں
میری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے

اسیر ہے میری شاخ نصیب پت جھڑ میں
میرے پرندۂ دل پر بھی جال درد کا ہے

بدل گئے میرے حالات دل تو کیا ہو گا
یہ ایسی بات ہے جس میں زوال درد کا ہے

دلوں پہ زندہ تھا دل ہی نہیں رہے ہیں یہاں
اب ایسے شہر میں جینا محال درد کا ہے

جمود توڑتی آنکھیں، سکوت توڑتے لب
یہ ناک نقشہ یہ سب خدّ و خال درد کا ہے

سُنا ہے تیرے نگر جا بسا ہے بیچارا
سُناؤ کیسا وہاں حال چال درد کا ہے

وگرنہ خار و خزاں کے سوا نہیں کچھ بھی
بس ایک پھول میری ڈال ڈال درد کا ہے

اُکھڑتی جاتی ہے دیوانہ وار ایڑیوں سے
زمینِ جاں پہ ہماری دھمال درد کا ہے

فقیر بیٹھے ہوئے ہیں بہت سکون سے ہم
تیری جدائی کی کُٹیا ہے پیال درد کا ہے

کہ ہم نے کس کے لیے جاں عذاب میں ڈالی
ہمیں تو آج بھی خود سے ملال درد کا ہے

ہمارے سینے میں دل کی جگہ پہ پتھر ہے
اِسی لیے تو یہاں ایسا کال درد کا ہے

تہاری چاہ نے ڈھونڈی تھی میری آبادی
یہ گھاؤ سینے کی بستی میں کھال درد کا ہے

یہ عشق ہے اِسے تیمار داریاں کیسی
اسے نہ پوچھ یہ بوڑھا نڈھال درد کا ہے

ہم اس کو دیکھتے جاتے ہیں، روتے جاتے ہیں
یہ صحنِ شب میں پڑا ہے جو تھال درد کا ہے

نہ تم میں سکھ کی کوئی بات ہے نہ مجھے میں ہے
تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے

ابھی کہیں سے کڑی کوئی بھی نہیں ٹوٹی
ابھی تو سلسلہ سارا بحال درد کا ہے

میری طرف سے گزر کا خیال رہنے دو
یہ راستہ بھی بہت پائمال درد کا ہے

دل و نظر تو رہیں گے سکون میں لیکن
شب فراق مجھے احتمال درد کا ہے

کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں
ہمارے پاس یہی کچھ ماٌل درد کا ہے

یہیں کہیں میرے اندر کوئی تڑپتا ہے
یہیں کہیں پہ کوئی یرغمال درد کا ہے

اسی لیے تو ہمیں عجز کا قرینہ ہے
ہماری ذات میں جاہ و جلال درد کا ہے

ہے مار رکھنے کے در پئے تری مسیحائی
جو دوڑا پھرتا ہے مَن میں غزال درد کا ہے

وہیں کہیں کسی گھاٹی میں تیرا ہجر بھی ہے
میرے لہُو سے جہاں اِتصال درد کا ہے

نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہے
نہ جانے روح میں کب سے اُبال درد کا ہے

یہی تو فرق ہے ان میں اور آپ میں فرحت
کسی کو اپنا کسی کو خیال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کہ فرحت بہت حسین ہو تم
تو مُسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

ye jo qurbaton ka


یہ جو قربتوں کا خمار ہے
مرے اجنبی، مرے آشنا
تو مصر کے آئینہ خانے میں
ترے خال و خد کے سوا مجھے
کہیں اور کچھ نہ دکھائی دے

یہ عذابِ طوق و رسن مرا
کسی قصر خواب و خیال تک
مرے ذہن کو نہ رسائی دے
مجھے راستہ نہ سجھائی دے

تو یہ چھت جو اپنے سروں پہ ہے
یہ جو بام و در کے حصار ہیں
یہ جو رت جگوں کی بہار ہے
یہ جو قربتوں کا خمار ہے
تو اسی پہ کیا شب عمر کی

سبھی راحتوں کا مدار ہے ؟
مرے اجنبی، مرے آشنا

کہ دھواں دھواں سی جو ہے فضا
یہ تھمی تھمی سی جو ہے ہوا
یہ جو شور ہے دل زار کا
کبھی اس پہ غور کیا ہے کیا ؟
مرے اجنبی، مرے آشنا

کبھی کاش تجھ سے میں کہہ سکوں
کہ یہ ساعتیں ہیں کٹھن بہت
مرے زخم جاں کے طبیب آ
مرے تن بدن سے بھی ربط رکھ
مری روح کے بھی قریب آ
مرے اجنبی، مرے آشنا 

saat chalne wale jab




Sath chalny waly jab 

Sath chor jaty han 

Waqt thum nahi jata 

Koi mar nahi jata 

Koi mar bhi jay to 

Zindgi nahi rukti 

Raston ko chalna hai 

Rasty to chalty han 

Yaar dost milty han 

Zakhum aisy silty han 

Ghard ghard lamhon main 

Umar kat hi jati hai 

Kuch mosafron ko bas manzilan nahi milteen 

Najane kyun bicher jate hain wo log. 

Jin ki yaadin ban jati hain umar bhar ka