
Showing posts with label پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ. Show all posts
Showing posts with label پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ. Show all posts
اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ
دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے
یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے
دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے
نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے
نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے
تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی
اب حذر ہوتا ہے اس رات سے آتے جاتے
اب حذر ہوتا ہے اس رات سے آتے جاتے
شہرِ بے مہر کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا
ایک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے
ایک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے
پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے
دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے
دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے
ہر گھڑی اک جدا غم ہے جدائی اس کی
غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے
غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے
اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ
اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے
اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے
افلاک پہ اک دیپ جلا کیوں نہیں دیتے؟
گلزار کو احساس ـ صبا کیوں نہیں دیتے؟
یہ تیرے نفس دل کو جلا کیوں نہیں دیتے؟
جو خاک ترے کوچہ ء رنگیں کی نہیں ہے
اس خاک کو مٹی میں ملا کیوں نہیں دیتے؟
بجلی کو ترے ہاتھ سے گرتا ہوا دیکھوں
افلاک کو رستے سے ہٹا کیوں نہیں دیتے؟
دلداری ء مشتاق ـ وفا کیوں نہیں ہوتی؟
پابند ـمحبت کو دعا کیوں نہیں دیتے؟
خورشید ـتمازت کو مرے گھر میں جلا دو
افلاک پہ اک دیپ جلا کیوں نہیں دیتے؟
ــــــــــعاجز نصیروی ــــــــــ
کبھی جو نام کی خاطر لڑی تھی
کبھی جو نام کی خاطر لڑی تھی
میاں وہ جنگ بھی بس نام کی تھی
کبھی میں بھی اسی کو سوچتا تھا
سو میری گفتگو بھی شاعری تھی
ہماری چار دن کی زندگی میں
جنوں تھا، دشت تھا، آوارگی تھی
کویئ صحرا سمندر ہو گیا تھا
سمندر کی بڑی دریا دلی تھی
کبھی ہم زندگی کرتے تھے عاجز!
کبھی جذبات سے وابستگی تھی
ــــــــــ عاجز نصیروی ـــــــــ
قرباں ھوئے جو ان پہ بہتر چراغ عرش
قرآں حسین تھا وہ سیپارے حسین کے
( جناب صائم جی )
تراب کرب و بلا تبرک سمجھ کے کھا ئی تھی سال پہلے
گئی نہیں ھے مرے بدن سے ابھی تلک نینوا کی خوشبو
( جناب وسیم نقوی )
پیاس کا دشت وھی کرب و بلا اور حسین
کتنے ملتے ھیں یہ د و لفظ وفا اور حسین
( جناب حسن جعفری )
یہ واقعہ ھی نہیں ا یک درس ھے محمود
میں کربلا کے حوالے سے د ین کو سمجھا
( محمدمحمود احمد )
غم زما نہ کے اس دشت میں علی اعظم
اگر حسین نہ ھوتے ھمارا کیا ھوتا
( علی اعظم بخاری )
قرباں ھوئے جو ان پہ بہتر چراغ عرش
قرآں حسین تھا وہ سیپارے حسین کے
( جناب صائم جی )
تراب کرب و بلا تبرک سمجھ کے کھا ئی تھی سال پہلے
گئی نہیں ھے مرے بدن سے ابھی تلک نینوا کی خوشبو
( جناب وسیم نقوی )
پیاس کا دشت وھی کرب و بلا اور حسین
کتنے ملتے ھیں یہ د و لفظ وفا اور حسین
( جناب حسن جعفری )
یہ واقعہ ھی نہیں ا یک درس ھے محمود
میں کربلا کے حوالے سے د ین کو سمجھا
( محمدمحمود احمد )
غم زما نہ کے اس دشت میں علی اعظم
اگر حسین نہ ھوتے ھمارا کیا ھوتا
( علی اعظم بخاری )
قرآں حسین تھا وہ سیپارے حسین کے
( جناب صائم جی )
تراب کرب و بلا تبرک سمجھ کے کھا ئی تھی سال پہلے
گئی نہیں ھے مرے بدن سے ابھی تلک نینوا کی خوشبو
( جناب وسیم نقوی )
پیاس کا دشت وھی کرب و بلا اور حسین
کتنے ملتے ھیں یہ د و لفظ وفا اور حسین
( جناب حسن جعفری )
یہ واقعہ ھی نہیں ا یک درس ھے محمود
میں کربلا کے حوالے سے د ین کو سمجھا
( محمدمحمود احمد )
غم زما نہ کے اس دشت میں علی اعظم
اگر حسین نہ ھوتے ھمارا کیا ھوتا
( علی اعظم بخاری )
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
و مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں
اک جھلک آج دکھا گنبد خضری کے مکیں
کچھ بھی ہیں دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں
سر پہ رکھ دیجیے ذرا دست تسلی آقا
غم کے مارے ہیں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں
نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے
تیری نسبت کے تقاضوں کو بھلائے ہوئے ہیں
گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا
غیر کے ساتھ رہ رسم بڑھائے ہوئے ہیں
شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا
یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئےہیں
تری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ
کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں
کاش دیوانہ بنا لیں وہ ہمیں بھی اپنا
ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں
اللہ الله مدینے پہ یہ جلووں کی پھوار
بارش نور میں سب لوگ نہائے ہوئے ہیں
کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھری ہو نصیر
اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
شہزادہ غوث الوراح پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علی
و مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں
اک جھلک آج دکھا گنبد خضری کے مکیں
کچھ بھی ہیں دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں
سر پہ رکھ دیجیے ذرا دست تسلی آقا
غم کے مارے ہیں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں
نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے
تیری نسبت کے تقاضوں کو بھلائے ہوئے ہیں
گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا
غیر کے ساتھ رہ رسم بڑھائے ہوئے ہیں
شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا
یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئےہیں
تری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ
کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں
کاش دیوانہ بنا لیں وہ ہمیں بھی اپنا
ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں
اللہ الله مدینے پہ یہ جلووں کی پھوار
بارش نور میں سب لوگ نہائے ہوئے ہیں
کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھری ہو نصیر
اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)








