Showing posts with label Saghar Siddque. Show all posts
Showing posts with label Saghar Siddque. Show all posts

بڑے خلوص سے دل نذرِ جام کرتا ہے




جو حادثے یہ جہاں میرے نام کرتا ہے

بڑے خلوص سے دل نذرِ جام کرتا ہے

ہمِیں سے قوسِ قزح کو مِلی ہے رنگینی

ہمارے در پہ زمانہ قیام کرتا ہے



ہمارے چاکِ گریباں سے کھیلنے والو

ہمیں بہار کا سورج سلام کرتا ہے



یہ میکدہ ہے یہاں کی ہر ایک شے کا حضور

غمِ حیات بہت احترام کرتا ہے



فقیہہِ شہر نے تُہمت لگائی ساغرؔ پر

یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے



ساغرؔ صدیقی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


مرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے



مرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے
ہر ایک پھول نئی زندگی کا غازی ہے

بہار میں بھی سُلگتے رہے ہیں کاشانے
کہ یہ بھی ایک طرح کی ستم طرازی ہے

میں اس مقام پر تجھ کو تلاش کرتا ہوں
حقیقتوں کا تصرف جہاں مجازی ہے

خُدا کے نام پہ پہلا سُبو اُٹھاتے ہیں
کہ مے کشوں میں یہی رسمِ پاکبازی ہے

تمہاری زلفِ پریشاں کودام کہ دینا
بڑا حَسین طریقِ فغان نوازی ہے

رَوش رَوش پر ہیں برق و شرر کے ہنگامے
مجھے یقیں ہے بہاروں کی کار سازی ہے

لِکھو!یہ عِظمتِ ہستی کے باب میں ساغرؔ
کہ غزنوی کی جلالت غمِ ایازی ہے

(ساغرؔ صدیقی)

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا



آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا

جب کبھی گردش تقدیر نے گھیرا ہے مجھے
گیسوئے یار کی الجھن کو بہت یاد کیا

شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانے نے
اک ترے شعلہء دامن کو بہت یاد کیا

جس کے ماتھے پہ نئی صبج کا جھومر ہوگا
ہم نے اس وقت کی دولھن کو بہت یاد کیا

آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد آئی
آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا

ہم سر طور بھی مایوس تجلّی ہی رہے
اس در یار کی چلمن کو بہت یاد کیا

مطمئن ہو ہی گئے دام قفس میں ساغؔر
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا؎

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(ساغؔر صدیقی)

چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا


چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا

ذرا نقاب اٹھاؤ! بڑا اندھیرا ہے



ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے

ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے



وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں

انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے



مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں

مرے قریب نہ آؤ! بڑا اندھیرا ہے



فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ

کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ! بڑا اندھیرا ہے



بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے

مجھے یقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے



جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں

وہ روشنی سی پلاؤ! بڑا اندھیرا ہے



بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس

کسی کرن کو جگاؤ! بڑا اندھیرا ہے



(ساغر صدیقی)