دِل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم

بسیرا
دِل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم
جیسے جنگل میں شام کے سائے
جاتے جاتے سہم کے رُک جائیں
مڑ کے دیکھیں اُداس راہوں پر
کیسے بجھتے ہوئے اُجا لوں میں
دُور دُھول دُھول اُڑتی ہے

شاعر : گلزار

وہ کیا جانے گا فضلِ مُرتضیٰؑ کو جو تیرے فضل کا جاہل ہے یا غوثؓ

وہ کیا جانے گا فضلِ مُرتضیٰؑ کو جو تیرے فضل کا جاہل ہے یا غوثؓ

Wo kya jaanega Fazl e Murtaza a.s. ko jo Tere Fazl ka jaahil hai Ya Ghaus !!!



جو مانگے سے نہ پائیں جاہ والے وہ بِن مانگے تجھے حاصل ہے یا غوث

jo Maange se na payein Jaah Wale Wo bin Maange Tujhe Hasil hai Ya Ghaus



جو قرنوں سیر میں عارف نہ پائیں وہ تیری پہلی ہی منزل ہے یا غوث

jo Qarno Sair mein Aarif na payein Wo Teri Pehli hi Manzil hai Ya Ghaus



طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث مگر تیرا کرم شامل ہے یا غوث

Talab ka Munh to kis Qabil hai Ya Ghaus Magar Tera Karam Shamil hai Ya Ghaus



رضی اللہ تعالیٰ عنہ و نفعنا بسرہٖ الجلیل

کب خواب میں بھی خواب سے بیدار ہوئ ہوں


کب خواب میں بھی خواب سے بیدار ہوئ ہوں
میں پوری طرح تیری گرفتار ہوئ ہوں


مجھ کو میری خواہش کے دسمبر میں جلا دو
پہلے بھی میں اس آگ سے دوچار ہوئ ہوں


کب پھلتی اگر مجھ کو تراشا نہیں جاتا
یہ تیری عنایت کہ ثمر بار ہوئ ہوں


احساس کی کھڑکی جو تہِ جاں میں میں کھلی ہے
میں سترِ تر و تازہ سے سرشار ہوئ ہوں


شہلا شہناز


ابھی ضد نہ کر دل ِ بے خبر ،


ابھی ضد نہ کر دل ِ بے خبر ،
یہ پس ِ ہجوم ِ ستمگراں
ابھی کون تجھ سے وفا کرے

ابھی کس کو فرصتیں اس قدر
کہ سمیٹ کے تیرے کرچیاں
تیرے حق میں دل سے دعا کرے


تم اکثر یاد آتے ہو....


تم اکثر یاد آتے ہو
اور, بہت یاد آتے ہو
کہ یادوں کے سبھی موتی
میری امید کے آنسو
میرے یہ ضبط کے گوہر
اِن آنکھوں کے سمندر سے
میری پلکوں کے ساحل تک
چلے آتے ہیں چپکے سے
نجانے کیوں
نجانے کیوں تم نے ہمارا غرور توڑا
مگر
پھر بھی تم اکثر بےحد یاد آتے ہو
تم اکثر یاد آتے ہو....


کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں | مرزا اسد اللہ غالب


کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں

یہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میں



ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند

گستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں



جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع

گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں



رَو میں‌ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں



اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہے

جتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں



اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے

حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں



ہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحر

یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں



شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی

ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں



آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز

پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں



ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود

ہیں‌خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں



غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست

مشغولِ حق ہوں، بندگئ بُو تراب میں



مرزا اسد اللہ غالب


مت دے مجھکو الزام پیا!


میں دن ڈھلتا میں شام پیا
مرا جیون کتنا عام پیا

مرے چاروں اور ہوائیں ہیں
میں ریت پہ لکھٌا نام پیا

ھے کون سخی،ھے کون کھرا
مجھے لوگوں سے کیا کام پیا

ترا نام لکھا ھر بُوٹے پر
اور میں صحرا گُمنام پیا

مری اکھیوں میں کچھ دیر ٹھہر
جھٹ کر لے تُو آرام پیا

تُو چھوڑ گیا تو دکھتا ھے
سُونا آنگن،ھر گام پیا

تُو ھرجائی ھے ازلوں کا
مت دے مجھکو الزام پیا!

ہم یہ گرتی ہوئ دیوار سنبھالے ہوۓ ہیں


ہم تو زنجیر _ سفر شوق میں ڈالے ہوۓہیں

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوۓہیں



جان و تن عشق میں جل جائيں گے جل جانے دو

ہم اسی آگ سےگھر اپنا اجالے ہوۓہیں



کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے

کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوۓہیں



اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو

بھائ ،ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوۓہیں



ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم

لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوۓہیں



کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی

یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوۓہیں



دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی

ہم یہ گرتی ہوئ دیوار سنبھالے ہوۓہیں