لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں


لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

اور جام ٹوٹیں گے اس شراب خانے میں
موسموں کے آنے میں، موسموں کے جانے میں

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتی
کون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں

دوسری کوئی لڑکی زندگی میں آئے گی
کتنی دیر لگتی ہے اُس کو بھول جانے میں


شاعر : بشیر بدر

دِل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم

بسیرا
دِل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم
جیسے جنگل میں شام کے سائے
جاتے جاتے سہم کے رُک جائیں
مڑ کے دیکھیں اُداس راہوں پر
کیسے بجھتے ہوئے اُجا لوں میں
دُور دُھول دُھول اُڑتی ہے

شاعر : گلزار

وہ کیا جانے گا فضلِ مُرتضیٰؑ کو جو تیرے فضل کا جاہل ہے یا غوثؓ

وہ کیا جانے گا فضلِ مُرتضیٰؑ کو جو تیرے فضل کا جاہل ہے یا غوثؓ

Wo kya jaanega Fazl e Murtaza a.s. ko jo Tere Fazl ka jaahil hai Ya Ghaus !!!



جو مانگے سے نہ پائیں جاہ والے وہ بِن مانگے تجھے حاصل ہے یا غوث

jo Maange se na payein Jaah Wale Wo bin Maange Tujhe Hasil hai Ya Ghaus



جو قرنوں سیر میں عارف نہ پائیں وہ تیری پہلی ہی منزل ہے یا غوث

jo Qarno Sair mein Aarif na payein Wo Teri Pehli hi Manzil hai Ya Ghaus



طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث مگر تیرا کرم شامل ہے یا غوث

Talab ka Munh to kis Qabil hai Ya Ghaus Magar Tera Karam Shamil hai Ya Ghaus



رضی اللہ تعالیٰ عنہ و نفعنا بسرہٖ الجلیل

کب خواب میں بھی خواب سے بیدار ہوئ ہوں


کب خواب میں بھی خواب سے بیدار ہوئ ہوں
میں پوری طرح تیری گرفتار ہوئ ہوں


مجھ کو میری خواہش کے دسمبر میں جلا دو
پہلے بھی میں اس آگ سے دوچار ہوئ ہوں


کب پھلتی اگر مجھ کو تراشا نہیں جاتا
یہ تیری عنایت کہ ثمر بار ہوئ ہوں


احساس کی کھڑکی جو تہِ جاں میں میں کھلی ہے
میں سترِ تر و تازہ سے سرشار ہوئ ہوں


شہلا شہناز


ابھی ضد نہ کر دل ِ بے خبر ،


ابھی ضد نہ کر دل ِ بے خبر ،
یہ پس ِ ہجوم ِ ستمگراں
ابھی کون تجھ سے وفا کرے

ابھی کس کو فرصتیں اس قدر
کہ سمیٹ کے تیرے کرچیاں
تیرے حق میں دل سے دعا کرے


تم اکثر یاد آتے ہو....


تم اکثر یاد آتے ہو
اور, بہت یاد آتے ہو
کہ یادوں کے سبھی موتی
میری امید کے آنسو
میرے یہ ضبط کے گوہر
اِن آنکھوں کے سمندر سے
میری پلکوں کے ساحل تک
چلے آتے ہیں چپکے سے
نجانے کیوں
نجانے کیوں تم نے ہمارا غرور توڑا
مگر
پھر بھی تم اکثر بےحد یاد آتے ہو
تم اکثر یاد آتے ہو....