دَس او سجنا کِيويں پُل جائيے اپنياں پِنڈاں تھاواں نُوں


دَس او سجنا کِيويں پُل جائيے اپنياں پِنڈاں تھاواں نُوں
ديسى رِيت رواجاں نُوں تے رب وَرگِياں ماواں نُوں
کِيويں پُل جائيے او بچپن جيڑا، پِنڈ وچ رہ کے بِيت گيا
ہار گيا ساڈا پنجابى وِرثا، پر اے فيشن جِيت گيا
نِکے نِکے ہُوندے سى، ماں نے اَوٹھانا کَن دے اُتوں پھڑ کے جى
لے او پُتر پَھڑ لے قاعِدہ آ مسيتوں پڑھ کے جى
مسيتوں پڑھ کے گھر نُوں مُڑنا ،ماں نے دودھ مدھانى پَھير لينى
بہى روٹى دہى لَسى مکھنى اُتوں ہور دينى
لَسى لين لئى آئى گوانڈن گلاں کرَن لئى کَير لينى
پِنڈ وچ اِک سکول ہُوندا سى، جِتھے پڑھن لئى جاندے سى
ٹاکياں دا بستہ مليشى دى وردى، نہ کوئى ڈيکس نہ ٹاک ہونا
بورى گھروں لے جاندے سى، جمعے دى اِک چھٹى ہونى
مُربے چلدا ويلنا جى ٹھنڈى ٹھنڈى روھ پينى تَتا تَتا گُڑھ کھانا
ننگے پَيريں چُورے اُتے کھيلنا جى
باپ دى اُنگلى پَھڑ کے جيڑے ميلے وَيکھ لے
ٹَبر دا اِتفاق نى مُڑنا جو کٹھياں چُولے سَيک لے
شہر وسينديا سجنا بڑا ہى کرم رب دا اے
اصلى پيار محبت اج وى پِنڈا دے وچ لب دا اے
سانُوں ہلے تک نى پُليا شہر تُوں سوہنا چَک نى پُليا
ہَرنى ورگى اَکھ نى پُلى چِيتے ورگا لَک نى پُليا

قیمت میں تو ہلکے ہیں انشا کی نشانی ہے


اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے

اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے



ہم اہل محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے

ہم اہل محبت کو آزاد جوانی ہے



ہاں چاند کے داغوں کو سینے میں بساتے ہیں

دنیا کہے دیوانا۔۔۔ دنیا دیوانی ہے



اک بات مگر ہم بھی پوچھیں جو اجازت

کیوں تم نے یہ غم یہ کر پردیس کی ٹھانی ہے



سکھ لے کر چلے جانا، دکھ دے کر چلے جا نا

کیوں حسن کے ماتوں کی یہ ریت پرانی ہے



ہدیہ دل مفلس کا چھ شعر غزل کے ہیں

قیمت میں تو ہلکے ہیں انشا کی نشانی ہے


ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺗﮭﺎ

ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺗﮭﺎ
 ﻧﮧ ﻋﺪﺍﻭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻋﺬﺍﺏ ﺗﮭﯽ
 ﮐﺒﮭﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺱ ﺍُﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ
 ﮐﮧ ﺳﺮﺍﺏ ﺟﺘﻨﮯ ﻣﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ

ﮨﻮﺍ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺟﺲ ﭘﮧ ﮔﻼﺏ ﮐﺎ
 ﻭﮦ ﺳﻠﮕﺘﺎ ﺟﻠﺘﺎ ﺷﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﻣﮍ ﮐﮯ ﺻﺪﺍ ﻧﮧ ﺩﯼ
 ﭘﻠﭧ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﺰﺍﮞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ 
ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺭ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﮞ
 ﮐﯿﻮﮞ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﮰ ﯾﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺮﯾﺰ ﺗﮭﺎ
 ﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧَﺎ ﮐﺎ ﺣﺼﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻠﮯ ﮐﮩﯿﮟ
 ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺘﺎﺩﮮ ﺍُﺳﮯ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﺮﮮ ﻓﻦِ ﺷﻌﺮ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺧﻮﺩﯼ
 ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺧﻤﺎﺭ ﺗﮫ


بڑے خلوص سے دل نذرِ جام کرتا ہے




جو حادثے یہ جہاں میرے نام کرتا ہے

بڑے خلوص سے دل نذرِ جام کرتا ہے

ہمِیں سے قوسِ قزح کو مِلی ہے رنگینی

ہمارے در پہ زمانہ قیام کرتا ہے



ہمارے چاکِ گریباں سے کھیلنے والو

ہمیں بہار کا سورج سلام کرتا ہے



یہ میکدہ ہے یہاں کی ہر ایک شے کا حضور

غمِ حیات بہت احترام کرتا ہے



فقیہہِ شہر نے تُہمت لگائی ساغرؔ پر

یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے



ساغرؔ صدیقی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


مرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے



مرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے
ہر ایک پھول نئی زندگی کا غازی ہے

بہار میں بھی سُلگتے رہے ہیں کاشانے
کہ یہ بھی ایک طرح کی ستم طرازی ہے

میں اس مقام پر تجھ کو تلاش کرتا ہوں
حقیقتوں کا تصرف جہاں مجازی ہے

خُدا کے نام پہ پہلا سُبو اُٹھاتے ہیں
کہ مے کشوں میں یہی رسمِ پاکبازی ہے

تمہاری زلفِ پریشاں کودام کہ دینا
بڑا حَسین طریقِ فغان نوازی ہے

رَوش رَوش پر ہیں برق و شرر کے ہنگامے
مجھے یقیں ہے بہاروں کی کار سازی ہے

لِکھو!یہ عِظمتِ ہستی کے باب میں ساغرؔ
کہ غزنوی کی جلالت غمِ ایازی ہے

(ساغرؔ صدیقی)

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا



آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا

جب کبھی گردش تقدیر نے گھیرا ہے مجھے
گیسوئے یار کی الجھن کو بہت یاد کیا

شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانے نے
اک ترے شعلہء دامن کو بہت یاد کیا

جس کے ماتھے پہ نئی صبج کا جھومر ہوگا
ہم نے اس وقت کی دولھن کو بہت یاد کیا

آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد آئی
آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا

ہم سر طور بھی مایوس تجلّی ہی رہے
اس در یار کی چلمن کو بہت یاد کیا

مطمئن ہو ہی گئے دام قفس میں ساغؔر
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا؎

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(ساغؔر صدیقی)

چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا


چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا

ذرا نقاب اٹھاؤ! بڑا اندھیرا ہے



ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے

ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے



وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں

انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے



مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں

مرے قریب نہ آؤ! بڑا اندھیرا ہے



فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ

کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ! بڑا اندھیرا ہے



بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے

مجھے یقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے



جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں

وہ روشنی سی پلاؤ! بڑا اندھیرا ہے



بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس

کسی کرن کو جگاؤ! بڑا اندھیرا ہے



(ساغر صدیقی)

تُو میرا عشق ہے اور عشق سے ملتا ہے خُدا۔۔۔۔!


قریہ و ساعت و دھڑکن کی قسم
تیرے قدموں کی قسم
پاؤں کے ناخن کی قسم
کر نہ پاؤں گا کسی طور تجھے دل سے جُدا

تُو میرا عشق ہے اور عشق سے ملتا ہے خُدا۔۔۔۔!

قریہ و ساعت و دھڑکن کے دریچے سے تُو اب
آنکھ سے آنکھ مل، کھول یاقوت سے لب
صاحبِ عشق کا بھیجا ہوا فرمان سُنا

میرا مطلب ہے مجھے عشق کا قرآن سُنا۔۔۔۔۔!!

سورہِ نور کو چُھو اور جبیں پر میری
اپنے ہی نام کو لکھ اور میرے ہاتھ کو تھام

اپنے ہاتھوں سے پلا آج مجھے عشق کا جام۔۔۔۔۔!!!
اپنے ہاتھوں سے پلا آج مجھے عشق کا جام۔۔۔۔۔!!!!