زلزلے یوں ہی زمین پر نہیں آتے ہیں
ضرور کوئی بیتاب تہ خاک تڑپتا ہوگا

رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

آس اُس در سے ٹوٹتی ہی نہیں
جا کے دیکھا ، نہ جا کے دیکھ لیا

وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

آج اُن کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا

فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا

نصیحت روز بکتی ہے ،عقیدت روز بکتی ہے


نصیحت روز بکتی ہے ،عقیدت روز بکتی ہے
ہمارے شہر میں لوگو، محبت روز بکتی ہے
امیر شہر کے ڈر کا،ابھی محتاج ہے مذہب
ابھی ملا کے فتووں میں، شریعت روز بکتی ہے
ہمارے خون کو بھی وہ کسی دن بیچ ڈالیں گے
خریداروں کے جھرمٹ میں عدالت روز بکتی ہے
نجانے لطف کیا ملتا ہے ان کو روز بکنے میں
طوائف کی طرح لوگو
،قیادت روز بکتی ہے
کبھی مسجد کے منبر پر، کبھی حجرے میں چھپ چھپ کے
میرے واعظ کے لہجے میں، قیامت روز بکتی ہے
بڑی لاچار ہیں محسن جبینیں ان غریبوں کی
کہ مجبوری کی منڈی میں عبادت روز بکتی ہے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے | ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں‌بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے

دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے
نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے

تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی
اب حذر ہوتا ہے اس رات سے آتے جاتے

شہرِ بے مہر کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا
ایک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے

پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے
دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے

ہر گھڑی اک جدا غم ہے جدائی اس کی
غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے

اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ
اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے


خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں

ہر اینٹ سوچھتی ہے کہ  دیوار مجھ سے ہے



خشک ہونٹوں سے ہی ہُوا کرتی ہیں  پیار کی باتیں محسن


پیاس بجھ جائے تو اکثر لہجہ بھی بدل جاتا ہے